بیجنگ، 19؍اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) چین نے آج اروناچل پردیش کے6مقامات کے لیے معیاری سرکاری ناموں کا اعلان کیا اور اشتعال دلانے و الے اس قدم کو جائز ٹھہرایا ۔چین نے اس سرحدی ریاست میں دلائی لامہ کے دورے کاہندوستان کے سامنے سخت احتجاج درج کرانے کے کچھ دنوں بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔سرکاری میڈیا نے یہاں بتایا کہ اس قدم کا مقصد اروناچل پردیش پر چین کے دعوے کی تصدیق کرنا ہے، چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ بتاتا ہے۔سرکاری گلوبل ٹائمز نے آج کہاکہ چین کی شہری امور کی وزارت نے اعلان کیا کہ اس نے مرکزی حکومت کے قوانین کے مطابق، 14؍اپریل کو جنوبی تبت کے 6مقامات کے نام چینی، تبتی اور رومن حروف میں معیاری کر دیا ہے ، جنہیں ہندوستان اروناچل پردیش کہتا ہے۔رومن حروف کا استعمال کرتے ہوئے ان 6مقامات کا سرکاری نام ووگین لنگ ، ملا ری، کوائی دینگابرے ری، مین کیوکا، بومو لا او ناماکاپوب ری رکھاگیاہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کنگ نے میڈیا کو معلومات دیتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش میں 6 مقامات کے چینی ناموں کے نام پر رکھنا جائز قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ دلائی لامہ کی سرگرمیاں حکومت ہند کے چین کو لے کر کے عزم کے خلاف ہے۔